Thursday, 2 April 2020

اللہ تعالی کا ذکر محمد اعظم قادری

اللہ تعالی کا ذکر

محمد اعظم قادری کی آواز میں

دلہن وی لاجواب اے دلہا وی لاجواب

دلہن وی لاجواب اے دلہا وی لاجواب 
احمد علی حاکم نعت گو شاعر
مزید اچھی اچھی اسلامی وڈیوز کےلیے ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں شکریہ  

Friday, 3 January 2020

The event is complete upon the Prophet Muhammad واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکمل

معراج کی کچھ تفصیل

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھابعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجائے حجر بیان کیا کہ میرے پاس ایک صاحب ( جبرائیل علیہ السلام ) آئے اور میرا سینہ چاک کیا قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک۔ میں نے جارود سے سنا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ پوچھا کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس لفظ سے کیا مراد تھی? تو انہوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا ( قتادہ نے بیان کیا کہ ) میں نے انس سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا، پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا اس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک جانور لایا گیا جو گھوڑے سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور سفید جارود نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا ابوحمزہ! کیا وہ براق تھا? آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کا ہر قدم اس کے منتہائے نظر پر پڑتا تھا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبرائیل مجھے لے کر چلے آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون صاحب ہیں?انہوں نے بتایا کہ جبرائیل ( علیہ السلام ) پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے? آپ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )  پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا? انہوں نے جواب دیا کہ ہاں اس پر آواز آئی ( انہیں ) خوش آمدید¡ کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ اور دروازہ کھول دیا۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کے جد امجد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی:جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے وہاں بھی دروازہ کھلوایا آواز آئی کون صاحب آئے ہیں?بتایا کہ جبرائیل ( علیہ السلام ) پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں?کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا?گیا کیا آپ کو انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں- پھر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام موجود تھے' یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا اور ان حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی; یہاں سے جبرائیل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں?جواب دیا کہ جبرائیل۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں? جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) - پوچھا گیا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا? جواب دیا کہ ہاں, اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، دروازہ کھلا اور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام موجود   تھے جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ یوسف علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا¡ خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی¡ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون صاحب ہیں? بتایا کہ جبرائیل¡ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے? کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا? جواب دیا کہ ہاں کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ¡ اب دروازہ کھلا جب میں وہاں ادریس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ ادریس علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید پاک بھائی اور نیک نبی پھر مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب ہیں? جواب دیا کہ جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں? جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )  پوچھا گیا کہ انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں اب آواز آئی خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ یہاں جب میں ہارون علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی¡یہاں سے لے کر مجھے آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں?بتایا کہ جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں?جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ پھر کہا انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ میں جب وہاں موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب کے بعد¡فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا آپ رو کیوں رہے ہیں? تو انہوں نے فرمایا میں اس پر رو رہا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا لیکن جنت میں اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا- پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں? جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں?جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا¿ جواب دیا کہ ہاں •کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، میں جب اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام تشریف رکھتے تھے• جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آپ کے جد امجد ہیں■ انہیں سلام کیجئے
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے¡ پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح ( بڑے بڑے ) تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے
جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے
 وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں دو باطنی اور دو ظاہری میں نے پوچھا اے جبرائیل¡ یہ کیا ہیں? انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں
پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب ایک میں دودھ اور ایک میں شہد لایا گی
میں نے دودھ کا گلاس لے لیا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہی فطرت ہے اور آپ اس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی¡ پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں میں واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کس چیز کا آپ کو حکم ہوا؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نمازوں کا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لیکن آپ کی امت میں اتنی طاقت نہیں ہے
اس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے
 اس لیے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ جائیے اور اپنی امت پر تخفیف کے لیے عرض کیجئے
 چنانچہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لیے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں
پھر میں جب واپسی میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر وہی سوال کیا میں دوبارہ بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا اور اس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم ہوئیں
پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور تو انہوں نے وہی مطالبہ کیا میں نے اس مرتبہ بھی بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہو کر دس وقت کی نمازیں کم کرائیں
 موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے پھر گزرا انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا پھر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا تو مجھے دس وقت کی نمازوں کا حکم ہوا میں واپس ہونے لگا تو آپ نے پھر وہی کہا اب بارگاہ الٰہی میں حاضرہوا تو روزانہ صرف پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہا
 موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو آپ نے دریافت فرمایا اب کیا حکم ہوا¿ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہےفرمایا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے
اپنے رب کے دربار میں پھر حاضر ہو کر تخفیف کے لیے عرض کیجئے
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالیٰ سے میں بہت سوال کر چکا اور اب مجھے شرم آتی ہےاب میں بس اسی پر راضی ہوں
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جب میں وہاں سے گزرنے لگا تو ندا آئی¡ میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا
  • (3887صحیح البخاری)

Monday, 23 December 2019

محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

محبت ِمصطفٰی ﷺ

محبت مصطفٰی ﷺ کی جب بات آتی ہے تو یہ بہت آسان لگتا ہے کہ بیان کردیا جائے.. کیونکہ ایک مومن کا گمان ِ حسن ِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یہی ہوتا ہے.... لیکن جب بیان کرنے لگیں تو معلوم ہوتا ہے ارے.... ہم

جس اعلی و ارفع ذات مبارکہ کی محبت  بیان کرنا چاہتے ہیں وہ لفظوں میں، وہ جذبوں میں،  وہ صدیوں میں، بیان کی ہی نہیں جاسکتی..... یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس ذات ِ مقدس، نشان ِ ایمان،  شافع ِ مومن کی تعریف بیان کی جسکے

کیونکہ محبت مصطفٰی ﷺ وہ محبت ہے

جس کی وجہ سے  کائنات وجود میں لائی گی..

زمیں کی چہل، آسماں کی پہل، ستاروں کی چمک، سورج کی دھنک، سمندروں کا شور، دریاؤں کا موڑ، بارشوں کی کِن مِن، اشجار کی چِھن چِھن ،

 یہ سب ربِّ باری تعالٰی نے پیدا فرمایا کیوں کس لئے؟؟؟؟؟

فرمادیا حقّ نے پھر......



اے محبوب(ﷺ) اگر میں تمہیں پیدا نہ فرماتا تو یہ کائنات بھی پیدا نہ فرماتا.
  (حدیث قدسی)

یا جب میں نے بیان کرنا چاہا محبت رسول ﷺ تو

 چودہ سو سال پہلے  وہ (حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ) جو اپنے بھائی کا گریبان سرِ بازار محبت ِ رسول ﷺ میں پکڑ لیا کرتے تھے..... اور للکارا کرتے تھے

یا وہ محبت جو حضرت ابو طالب کو یہ کہنے پر مجبور کرتی تھی

"خدا کی قسم تم لوگ اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور ایک پر چاند رکھ دو تب بھی میں اپنے بھتیجے کی  مخالفت نہ کروں گا.....

یا وہ محبت جو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہلواتی تھی

"گھر والو کے لیے الله اور اس کا رسول ﷺ کافی ہے"

یا وہ محبت جو صدیقِ اکبر یارِ  غار سانپ کا ڈنگ سہتے رہے اور نیند خراب نہ ہونے کے ڈر سے جنبش نہ کی..... تکلیف ہوئی پر زبان سے آہ نہ نکلی....

یا وہ محبت جس کا فیصلہ عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ تلوار سے سر قلم کر کہ کیا کرتے تھے اور فرمان ہوتا تھا

جو اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلے سے راضی نہیں اس کا فیصلہ میرے نزدیک یہ ہے......

یا وہ محبت محبت ِ مصطفٰی ﷺ جو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو منبر پر قیام کرواکے بیان کرنے پر مجبور کردیتی...



*وأَحسنُ منكَ لم ترَ قطُّ عيني*
*وَأجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النّسَاءُ*
*خلقتَ مبرأً منْ كلّ عيبٍ*
*كأنكَ قدْ خلقتَ كما تشاءُ*

اور پھر یہ اشعار رکتے نہ تھے بلکہ، "قصیدہ ِ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ بن جاتا تھا

یا وہ محبتِ رسول ﷺ  جو حضرت انس رضی اللہ عنہ  کو سخت سرد رات میں بستر سے نکل کر حضور
ﷺ کی خدمت بجا لانے پر خوشی خوشی تیار کرتی تھی..

یا وہ محبت ِ رسول  ﷺ جوحضرت  حنظلة رضی اللہ عنہ  کو ایک رات کی دلہن چھوڑ کر حضور ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے پر مجبور کرتی تھی......

یا وہ محبتِ رسول ﷺ جو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ  کو  شوقِ دیدار رسول ﷺمیلوں کا سفر کروایا کرتا تھا
یا وہ محبت جو شجر ہو یا منبر فراق ِ رسول میں آنسو بہایا کرتی تھی

یا وہ محبت رسول ﷺ جو امام بخاری علیہ الرحمہ کو بچھو کا ڈنگ برداشت کرنے پر مجبور کرتی  درد کا احساس  کے احساس پر محبت غالب آجاتی.. اور جنبش نہ ہوتی  کہ درسِ حدیث میں مشغول ہوتے تھے

یا وہ محبت رسول ﷺ جو حضرت امام بو صیری علیہ الرحمہ سے  قصیدہ بردہ شریف لکھواتی تھے اور پھر مبارک ہاتھوں سے بردہ(چادر) عطا فرمائیں.....

یا وہ محبت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم  جو ترکوں سے پر شوق، وارفتگی عشق سے تعمیر ِِ مکہ و مدینہ کرواتی اور لبوں پر صرف مسکان ہوتی.... کہ ان فضاؤں میں بھی عقیدت گھل جاتی صرف یہ سوچ کر ان مقامات پر ان جگہوں پر میرے نبی ﷺ نے کلام فرمایا،

یا وہ محبتِ رسول ﷺ جو کلامِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سننے کے لیے میلوں کا سفر سہتے.... اور پھر بھی  پیشانی پر شکن نہیں آنکھوں میں تھکن نہیں ہوتی بلکہ وفورِِ شوق سے پیشانی اور آنکھیں جگمگارہی ہوتیں

یا وہ محبت..جو علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ  کے  قلم کو وجد میں لے آتا اور  قلم لکھتا جاتا......لکھتا جاتا

کی محمد سے وفا تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز کیا لوح و قلم تیرے ہیں

یا وہ محبت  مصطفٰی ﷺ جسے دیکھ کر آج بھی بنی اسرائیل خوف کھاتے ہیں...

یا وہ محبت مصطفٰی ﷺ جو عیسائیوں کو سر اٹھانے نہیں دیتی

یا وہ محبت مصطفٰی ﷺ جو ترکھانوں کے، لوہاروں کے، ملکوں کے بیٹوں کو ناموس رسالت ﷺ کا پہرے دار بنادیتی ہے.....

یا وہ محبت مصطفی ﷺ جس کے بیدار ہونے سے  دشمنان ِ اسلام  خوفزدہ رہتے ہیں......

یہ تو چند ان طویل طویل احادیث و واقعات کو اختصار سے بیان کیا ہے وگرنہ

محبت مصطفٰی ﷺ کی مثالوں سے تو اسلام کا دامن بھرا ہوا جو ناممکنِ  بیان ہے لیکن کیا ہم اس محبت مصطفٰی ﷺ کا حق ادا کررہے ہیں جس کا ہمیں حکم دیا گیا؟؟؟؟

جس کے بارے میں خود رب تعالی نے فرمایا....

مَا کَانَ لِاَھلِ الْمدِینَتهِ وَ مَنْ حَوْلھُمْ مِّن الَْعرابِ أَنْ یَّتَخَلَّفوْا عَنْ رَسُوْلِ اللهِ وَ لَا یَرْ غَبُوا بأنفسهم عن نفسهِ

مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والو کو لائق نہ تھا کہ رسول (ﷺ)  سے پیچھے بیٹھے رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں
 (التوبہ ١٢٠)

یہی نہیں صاف اور صریح حکم ہے کہ
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا

"تم میں کوئی مومن نہیں ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ و اولاد اور سب آدمیوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں
 ( صحیح بخاری)

یہاں اختصار کے پیشِ نظر ایک آیت و حدیث سے استفادہ کیا ہے پر سوال تو وہی ہے

کیا ہم اس تقاضے کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں؟؟؟

سوچنا خود ہے...... آج ہم لوگوں کی ایمانی غیرت و حمیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن افسوس آج ہم اپنی زندگیوں میں اس قدرمصروف ہوگئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر افسوس اور چند لائنوں کے اظہار کے علاوہ کوئی عملی ثبوت نہیں رہا دینے کے لیے..... اور نہ ہی حکومت کے پاس وقت کہ مومنوں کی جان، مومنوں کے ایمان صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کے خلاف کچھ کریں.... یا تعلیم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں حکومت و عوام ہو...

صرف اتنا کہوں گا فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ
محبت مصطفی ﷺ
کا عملی ثبوت دیتے ہوئے نظام مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو نافذکریں اپنی زندگیوں میں تعلیم مصطفی  ﷺ کو لازم کریں کہ کل روز ِ آخرت کو شفاعت مصطفیﷺ بھی حاصل ہو

آخر میں صرف اتنا ہی

میری تحریر میں الفاظ شایان شان ِ جان عالم  رحمت اللعالمین  ﷺنہیں....

میں محبت بیان نہیں کرپایا...... مگر میری تحریر کی عظمت اس نامِ اعلی و بالا سے ہی

 "💞محمدﷺ"💞

قرطاس کے چہرے پر اک لفظ لکھا میں نے
اس لفظ کی خوشبو۔۔۔ سے ہر چیز معطر ہے
اس لفظ کی کرنوں ۔۔۔۔ سے ہر چیز منور ہے
وہ لفظ مکمل ہے ۔۔۔۔ وہ لفظ محمد ﷺ ہے

Sunday, 22 December 2019

معجزاتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

احادیث کی تلاش و جستجو سے پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے تقریباً تیرہ مواقع پر پانی کی نہریں جاری ہوئیں۔ ان میں سے صرف ایک موقع کا ذکر یہاں تحریر کیا جاتا ہے۔

۶ھ میں رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم عمرہ کا ارادہ کر کے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے اور حدیبیہ کے میدان میں اتر پڑے۔ آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے حدیبیہ کا کنواں خشک ہو گیا اور حاضرین پانی کے ایک ایک قطرہ کے لئے محتاج ہو گئے۔ اس وقت رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دریائے رحمت میں جوش آگیا اور آپ نے ایک بڑے پیالے میں اپنا دستِ مبارک رکھ دیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے اس طرح پانی کی نہریں جاری ہو گئیں کہ پندرہ سو کا لشکر سیراب ہوگیا۔ لوگوں نے وضو و غسل بھی کیا جانوروں کو بھی پلایا تمام مشکوںاور برتنوں کو بھی بھر لیا۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پیالہ میں سے دست مبارک کو اٹھا لیا اور پانی ختم ہو گیا۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے لوگوں نے پوچھا کہ اس وقت تم لوگ کتنے آدمی تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ پندرہ سو کی تعداد میں تھے مگر پانی اس قدر زیادہ تھا
لَوْكُنَّا مِايَةَ اَلْفٍ لَكَفٰنَا ۔
(مشکوٰة جلد۲ ص۵۳۲ باب المعجزات)
اگر ہم لوگ ایک لاکھ بھی ہوتے تو سب کو یہ پانی کافی ہو جاتا۔ یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے اور حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے علاوہ حضرت انس و حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی روایتوں سے بھی انگلیوں سے پانی کی نہریں جاری ہونے کی حدیثیں مروی ہیں ملاحظہ فرمائیے۔
(بخاری جلد۱ ص ۵۰۴ و ص ۵۰۵ علامات النبوة)